وقتِ فروخت گھر کی درست قیمت کا تعین کیسے کیا جائے؟

پراپرٹی کی خرید و فروخت یقیناً ایک مشکل کام ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے لیے بہت سی تگ و دو، بہت سی بھاگ دوڑ اور بہت سی گُفت و شنید درکار ہے۔ اس تگ و دو اور گُفت و شنید میں آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ پراپرٹی کی ویلیو بہت ساری چیزوں سے تبدیل ہوتی ہے۔

چونکہ آج کی تحریر گھر کے فروخت اور اس عمل کے بارے میں ہے تو آپ کو یہ بھی اندازہ ہوگا کہ وقتِ فروخت جو قیمت آپ نے گھر کی لگائی ہو اُس کا بھی گھر کے بِکنے کے عمل پر کافی اثر ہوتا ہے۔ آج کی تحریر آپ کو بتائے گی کہ وقتِ فروخت گھر کی قیمت کیسے رکھی جائے۔

گھر فروخت کرنے کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اڑوس پڑوس راس نہ آئے یا نوکری کسی دوسری جگہ ہوجائے، بچوں کے اسکول گھر سے بہت دور پڑتے ہوں یا پھر کہیں کوئی اور اچھا مکان مل جائے، گھر فروخت کرنا پڑ جاتا ہے۔ یہ پراسیس مکمل طور پر ایک تھکا دینے والا عمل ہوسکتا ہے۔

گھر کی بہتر قیمت ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اُس کا گھر منافع میں ہو اور اس قیمت میں بکے جو وقتِ خرید ادا کی گئی قیمت سے زیادہ ہو۔

مارکیٹ اسٹڈی کرلیں

سب سے پہلے تو مارکیٹ اسٹڈی کرلیں۔ اس بات کا تعین کرلیں کہ آپ کے گھر جیسے مکانات کس ریٹ میں بکے ہیں یا بک رہے ہیں۔ مگر یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ہر ایک طرح کا گھر ایک قیمت کا نہیں ہوتا۔

جیسے اسلام آباد کے وسط میں واقع 10 مرلے کے مکانات اسلام آباد کے مضافات میں واقع 10 مرلے کے مکانات جتنی قیمت کے نہیں ہوں گے۔ اس اسٹڈی سے آپ کو نہ صرف مکان بیچنے کی رینج کا اندازہ ہوگا بلکہ ساتھ ہی اس بات کا بھی اندازہ ہوگا کہ مکان کس ریٹ میں بہت اچھا بک سکتا ہے اور کس رینج میں اُسے بیچنا محال ہے۔

مارکیٹ میں گھروں کی بہتات ہے یا قلت؟

جب آپ مارکیٹ اسٹڈی کریں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آیا مارکیٹ خرید کنندگان کے حق میں ہے یا فروخت کرنے والوں کے حق میں۔ اب اس بات کا اندازہ کیسے لگایا جائے؟ جناب یہ بھی کوئی مشکل نہیں۔

آپ نے دیکھنا ہے کہ مارکیٹ میں گھروں کی بہتات ہے یا قلت۔ یعنی آپ نے دیکھنا ہے کہ کسی خاص احاطے میں فروخت کرنے والے زیادہ ہیں یا خریدنے والے۔ اگر فروخت کرنے والے زیادہ ہیں تو گھر کی قیمت اُس حساب سے لگائی جائے گی اور کم لگائی جائے گی۔ اسی طرح اگر خریدار زیادہ ہیں اور گھر تھوڑے تو اس کا مطلب ہے کہ شہر کی ہوا آپ کو اپنا گھر ایک بہتر اور زیادہ قیمت میں فروخت کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

دیر اور جلدی، دونوں سے گُریز

کوشش کریں کہ اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو گھر جلدی میں نہ بیچیں۔ خود کو خریدار کی جگہ پر رکھیں اور سوچیں کہ اگر آپ اس کی جگہ پر ہوتے تو آپ کیسی امید کرتے کہ ایک فروخت کنندہ آپ سے کیسے بات کرے اور آپ کو کن کن مراحل سے گزارے۔

یوں آپ نہ تو گھر کی قیمت بہت زیادہ لگائیں گے نہ ہی آپ کسی ایک ریٹ پر پھنس کر رہ جائیں گے۔ یاد رکھیے گا کہ جو گھر مارکیٹ میں بہت دیر سے خریدنے کے لیے دستیاب ہو اور کوئی اُسے خرید نہ رہا ہو تو اس کی قدر خود بخود کم ہوجایا کرتی ہے۔ لہذا جہاں جلدی سے کام نہیں لینا وہیں بہت زیادہ ٹال مٹول سے کام لینا بھی معاملہ گمبھیر بنا سکتا ہے۔

سنچری پرائسنگ سے گُریز کریں

سنچری پرائسنگ سے گریز کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ کبھی آپ موبائل لینے چلیں یا کسی یوٹیلیٹی سٹور سے سودا سلف خرید رہے ہوں، آپ نے دیکھا ہوگا کہ کمپنیاں اپنے پراڈکٹس کی قیمتیں کبھی بھی راؤنڈ فگر پر نہیں رکھتیں۔ کسی موبائل فون کی ہی مثال لے لیں تو عموماً قیمت 22 ہزار یا 50 ہزار نہیں ہوتی بلکہ قیمتیں 22 ہزار 900 اور 50 ہزار 500 ہوتی ہیں۔

یہ ایک مثال ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ کبھی بھی قیمت ایک یک مشت ہندسہ نہیں ہوتی بلکہ ایک ہندسہ اور کچھ پیسے اُوپر بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ ٹیکنیک گھر کی صورت میں بھی لاگو ہوسکتی ہے اور اس سے آپ کو نگوشیشن اسپیس مل جاتی ہے یعنی آپ آرام سے کلائنٹ کے ساتھ بارگین کر سکتے ہیں۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *